پہلی قسط
میں لاہور کے علاقے سنت نگر میں پیدا ہوا- یہ جگہ نہ تو اندرون سشہر ہے اور نہ ہی اسے مضافاتی علاقہ کہا جا سکتا ہے - مڈل کلاس لوگوں کی مڈل میں بستی جگہ تھی جو تین چوک اندرون شہرمیں بستے ان لاہوریوں سے دور تھی جو اپنے علاوہ کسی اور کو لاہوری نہیں مانتے اور تین ہی چوک شادمان میں بستے ان لاہوریوں سے جن کی کوششس تھی کہ وہ لاہوری نہ کہلائیں
لاہور کی میری ابتدائی یادوں میں سب سے زیادہ عزیز یاد یا تو وہ فروٹ چاٹ ہے جو سکول کے باہر کی ریہڑی سے ملا کرتی تھی جس میں چاٹ فروش دو ٹکڑے کیلے کے ، دو ہی ٹکڑے سیب کے اور ان میں ابلے ہوے آلو اور چنے ڈال کر اس پر پانی ملا دہی ڈال کر دیا کرتا تھا ، اور یا وہ دن جس دن ابا نے مجھے لاہور دریافت کرنے اکیلا بھیج دیا تھا
وہ ہفتہ وار چھٹی کا دن تھا - میں اس وقت سکول کی پانچویں جماعت کا طالب علم تھا - ابا نے ناشتے کے بعد مجھے پانچ روپے تھمائے کہ جا پتر ، آج تیرے ذمے کام یہ ہے کہ اکیلا لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ کی سیر کر کے آ - ہمارے گھر سے قریب ترین بس سٹاپ سول سیکرٹریٹ کا تھا جسے لاہوری انگریزی میں سیکٹری ایٹ کہا جاتا تھا - وہاں صرف دو بسیں رکا کرتی تھیں جن میں سے ایک ستائیس نمبر بس تھی جسے اس کے رنگ کی نسبت لال پری کہا جاتا تھا - اس بس کا روٹ رنگ محل بازار سے شروع ہوتا اور چوہنگ نامی مقام پر ختم ہوتا - سٹوڈنٹ ٹکٹ بہت ارزاں تھی جس کے لئے پانچ روپے ایک بہت بڑی رقم تھے - میں چوہنگ کی طرف جاتی بس میں سوار ہوا - ارادہ تو تھا کہ آخری سٹاپ تک اسی بس کو شرف سواری بخشا جائے لیکن ایک سٹاپ پر ایک نگوڑ ماری دہی بھلے کی دکان نظر جسے دیکھ کر ترنت بس سے اترا کیے اور دہی بھلے تناول فرمائے - اگلی بس سے چوہنگ کی طرف کا سفر دوبارہ شروع کیا گیا - آج کا لاہور تو شائد رائیونڈ سے بھی آگے جا چکا ہے لیکن تب چوہنگ لاہور سے کہیں باہر ایک بے آب و گیاہ قسم کی جگہ تھی جہاں اس سے پہلے میرا کبھی جانا نہیں ہوا تھا - بس تو مجھے اتار کر جانے کہاں روانہ ہو گئی اور میں اس ویران سی جگہ کے بس سٹاپ پر اکیلا کھڑا رہ گیا - آج بھی وہ وقت یاد آتا ہے تو وہ خوف محسوس ہوتا ہے جو اس وقت محسوس ہوا تھا - مولوی صاحب نے بتا رکھا تھا کہ درود شریف پڑھ کر دعا مانگی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے سو میں نے درود شریف کے ورد کے ساتھ دعا مانگنا شروع کر دی کہ الله میاں واپسی والی بس جلدی بھیج - شائد بیسویں یا اکیسویں درود کے ورد پر قبولیت کی گھڑی آئی اور دھواں اور گرد اڑاتی لال پری بس سٹاپ پر پہنچ گئی
میں واپسی کی بس میں سوار ہوا تو قصد یہ تھا کہ اب رنگ محل تک اسی بس میں استراحت کی جائے گی لیکن جیب میں پڑی خطیر رقم چبھنے سے باز ہی نہیں آ رہی تھی چنانچہ جب بس بھاٹی گیٹ پہنچی تو میں نے اتر کر حاجی مینگو جوس والے کے کاروبار کو مہمیز کرنے کا ارادہ کیا - جو حہاجی صاحب بیچتے تھے اسے دراصل جوس کہنا جائز نہیں لیکن اس کے لئے لغت میں شائد کوئی موزوں لفظ موجود نہیں - آم کا جوس ویسے نکالا بھی کہاں جاسکتا ہے - جس مشروب پر مینگو جوس کی تہمت تھی وہ دراصل آم کے پھینٹے ہوئے گودے میں پانی کی آزمائش تھی - شائد چینی بھی ڈالتا ہو لیکن وہ شخص جو چیز بیچتا تھا اس سے بہتر مشروب شائد ہی پیا ہو
حاجی مینگو جوس کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے بعد اگلی لال پری میں بیٹھ کر واپس رنگ محل کی طرف روانہ ہوا - ٹکٹ خریدنے کے بعد جب کھاتے کا جائزہ لیا تو علم ہوا کہ اب رنگ محل سے واپسی کا پورا کرایہ نہیں بچا - چونکہ ابھی قائد اعظم کا وہ قول پڑھ نہیں رکھا تھا کہ مسلمان مشکل میں گھبرایا نہیں کرتا تھا اس لئے خاصی گھبراہٹ ہوئی - پھر یاد آیا کہ بڑی خالہ مستی گیٹ رہتی ہیں اور رنگ محل سے گلیوں گلیوں ہوتے ہوئے ان کے گھر پہنچا جا سکتا ہے جیسا کہ میں اماں کی ہمراہی میں کئی دفعہ کر چکا تھا - یہ سوچ کر دل کو کچھ تسلی ہوئی کہ وہاں جا کر اپنے خالہ زاد کو کہوں گا کہ اپنی سائیکل مجھے گھر چھوڑ آئے - ساتھ ہی درود شریف پڑھ کر یہ دعا بھی کی کہ خالہ نے آلو گوشت پکائے ہوں جو ہمارے خاندان میں ان سے بہتر کوئی نہیں بناتا تھا
رنگ محل سے تنگ گلیوں کے سفر کو ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ یہ احساس راسخ ہو گیا کہ میں راستہ بھول چکا ہوں - اماں کے ساتھ کبھی زیادہ توجہ نہیں دی تھی کہ کس گلی سے کس گلی میں کب مڑنا ہے - رونی سی صورت لئے ایک پرچون فروش سے پوچھا کہ مجھے مستی گیٹ فیض احمد ایڈووکیٹ کے گھر جانا ہے جو کہ میرے خالو تھے اور میری دانست میں شائد اتنے مشہور وکیل تھے تھے کہ تمام شہر کو علم ہونا چاہیے کہ وہ کہاں رہتے ہیں - پرانے لاہور میں جب کسی سے پوچھا جائے کہ مجھے فلاں کے گھر جانا ہے تو اس سے سب سے پہلا سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ جس کا گھر تلاش کیا جا رہا ہے اس کے باپ کا نام کیا ہے کیونکہ والدین عمومی طور پر اپنے بچوں سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں اور اس لئے زیادہ عرصہ محلے میں گزار چکنے کی وجہ سے زیادہ معروف بھی - ابھی میں ذہن میں اپنے خالو کے شجرہ نسب کو یاد کرنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ ایک ویسپا سکوٹر پاس آکر رکا جس پر ابا اپنی مسکراہٹ سمیت سوار تھے - معلوم یہ ہوا کہ وہ تمام دن اپنے سکوٹر پر میرا اور میری لال پریوں کا تعاقب کرتے رہے - میں سکوٹرکی پچھلی سیٹ پر سوار ہوا تو ابا نے پوچھا کہ میں کدھر جا رہا تھا تو میں نے بتایا کہ واپسی کا کرایہ نہیں رہا تھا اور ان سے شکوہ کیا کہ اتنے بڑا شہر صرف پانچ روپے میں نہیں پھرا جا سکتا
Bohat mazy ki ..qasm se maza aa gya...waiting for next script..
ReplyDeleteLove it!
ReplyDeleteVery nice!!
ReplyDelete