Posts

لاہور سے محبت - دوسری قسط

ابا مرحوم کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا سینٹرل مڈل سکول میں پڑھے  - پانچویں جماعت تک تو میں ایک ایسے سکول میں پڑھتا رہا جہاں درخت کے نیچے نشست مل جانا خوش قسمتی سمجھا جاتا  تھا لیکن چھٹی جماعت کے لئے ابا مجھے سینٹرل ماڈل سکول کے داخلے کے ٹیسٹ کے لئے لے گئے - عشرے بیت چکے لکن مجھے وہ دن آج بھی یوں یاد ہے جیسسے یہ واقعہ پچھلے ہفتے ہوا -  کیونکہ میں اپنے ابا کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا  امتحان کے لیے تین گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا اور ابا نے ہدایت کی تھی کہ پورے تین گھنٹے لگانا - اگر جواب آتے بھی ہوں تو لکھ کر بار بار پڑھنا تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے  امتحانی سوالات  بہت آسان تھا  آٹے کی قیمت کیا ہے  پی تی وی پر ڈرامے لکھنے والوں میں سے تین مصنفین کے نام لکھو  علامہ اقبال کس شہر سے تھے   وغیرہ وغیرہ  میں ایک گھنٹے میں یہ ان تمام سوالات کے جواب لکھ کر ، انہیں بار بار پڑھ  کر ، تھک چکا تھا سو میں نے فیصلہ کیا کہ بہت ہو چکا - میں نے پیپر ممتحن کو پکڑایا اور باہر چلا گیا  جیسے ہی میں باہر نکلا، ایک ہجوم نے مجھے آ گھیرا - یہ وہ وا...

سر گنگا رام کا لاہور

  امریکی انتخابات ہمیشہ سے میری دلچسپی کا موضوع رہے ہیں لیکن اس دفعہ یہ انتخابات شائد کسی بھی انتخاب سے زیادہ اہم تھے  کیونکہ اس دفعہ مقابلہ دو اشخاص کے درمیان نہیں، دو اقدار کے درمیان تھا - وفاقی انتخاب سے نظر ہٹی تو دیکھا کہ امریکی ریاست ورمونٹ میں ایک کیشا رام نامی خاتون ریاستی سینیٹ میں منتخب ہوئی ہیں - نام سن کر تجسس ہوا کہ خاتون کے بارے میں کچھ معلوم کیا جائے - مجھے علم نہیں تھا کہ کیشا رام کے ذریعے لاہور کے ایک محسن سے ملاقات ہو جائے گی - کیشا رام ہمارے سر گنگا رام کی پڑپوتی ہیں  تمام شہر عظیم لوگوں کے مسکن ہوا کرتے ہیں لیکن شائد ہی پاکستان کا کوئی اور شہر ایسا ہو جس پر کسی ایک شخص کی ایسی چھاپ ہو جیسی سر گنگا رام کی لاہور پر ہے - جدید لاہور کی تاریخ لکھی جائے تو اس کا عنوان سر گنگا رام ہی ممکن ہے  انیسویں صدی کے وسط میں ننکانہ صاحب میں پولیس افسر دولت رام کے گھر پیدا ہونے والے گنگا رام نے تعلیم لاہور اور برطانیہ سے حاصل کی اور پھر پنجاب میں بطور سول انجنیئر تعینات ہوے - گنگا رام عام سرکاری ملازموں کی طرح صرف روزمرہ کے احکامات بجا لانے والوں میں سے نہیں تھے - ...

پہلی قسط

 میں لاہور کے علاقے سنت نگر میں پیدا ہوا- یہ جگہ نہ تو اندرون سشہر ہے اور نہ ہی اسے مضافاتی علاقہ کہا جا  سکتا ہے - مڈل کلاس لوگوں کی مڈل میں بستی جگہ تھی جو تین چوک اندرون شہرمیں بستے ان لاہوریوں سے دور تھی جو اپنے علاوہ کسی اور کو لاہوری نہیں مانتے اور تین ہی چوک شادمان میں بستے ان لاہوریوں سے جن کی کوششس تھی کہ وہ لاہوری نہ کہلائیں  لاہور کی میری ابتدائی یادوں میں سب سے زیادہ عزیز یاد یا تو وہ فروٹ چاٹ ہے جو سکول کے باہر کی ریہڑی سے ملا کرتی تھی جس میں چاٹ فروش دو ٹکڑے کیلے کے ، دو ہی ٹکڑے سیب کے اور ان میں ابلے ہوے آلو اور چنے ڈال کر اس پر پانی ملا دہی ڈال کر دیا کرتا تھا ، اور یا وہ دن جس دن ابا نے مجھے لاہور دریافت کرنے اکیلا بھیج دیا تھا  وہ ہفتہ وار چھٹی کا دن تھا - میں اس وقت سکول کی پانچویں جماعت کا طالب علم تھا - ابا نے ناشتے کے بعد مجھے پانچ روپے تھمائے کہ جا پتر ، آج تیرے ذمے کام یہ ہے کہ اکیلا لاہور کی پبلک ٹرانسپورٹ کی سیر کر کے آ - ہمارے گھر سے قریب ترین بس سٹاپ سول سیکرٹریٹ کا تھا جسے لاہوری انگریزی میں سیکٹری ایٹ کہا جا...